بھٹکل:6؍جولائی (ایس اؤ نیوز)تعلقہ میں ریت سپلائی کا دھندہ اپنی حدود کو پھلانگ رہاہے، تعلقہ کے شرالی گرام پنچایت حدود الویکوڑی برج کے آس پاس علاقوں سے بارش کے موسم میں بھی ریت نکال کر الگ الگ مقامات کو سپلائی کرنے کا الزام کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
متعلقہ علاقے میں سمندر کے جوار بھاٹا پر انحصار کرتےہوئے ریت سپلائی کا دھندہ چل رہاہے۔ سیپیاں وغیرہ نکالنےکے بہانے تھیلوں میں ریت بھر ی جاتی ہے، اس کے بعد تمام تھیلے ایک جگہ جمع کئے جاتےہیں، رات کے وقت آنے والی سواریوں میں ریت کے تھیلوں کو سپلائی کیا جاتاہے۔ ریت نکالنےکے لئے مقامی افراد کا استعمال کیا جارہاہے، جس میں خواتین کےسا تھ مرد مزدور بھی ساتھ دے رہے ہیں۔ کسی بھی چھاپہ ماری سے بچنے کے لئے راستے سے دور علاقے کو ریت نکالنے کے لئے منتخب کیا جاتاہے،کیونکہ اچانک کسی بھی وقت کوئی آجائے تو وہاں سے اوجھل ہونا بہت آسان ہوتاہے۔ شرالی سے الویکوڑی تک جہاں تہاں خبریوں کو تعینات کرتے ہوئے رات میں ریت کی سواری کو آسانی گزارنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وہیں ریت سپلائی کے پیچھے سیاسی افرا د کا ہاتھ ہونے کا شبہ جتایاگیاہے ، اسی لئے پولس کوئی کارروائی نہیں کئے جانے کا الزام لگایاجارہاہے۔
ریت کی قلت قانون کی خلاف ورزی کی وجہ : اترکنڑا ضلع میں باربار ریت کی قلت ہونے سے ہی غیر قانونی سپلائی کےلئے راستہ بنانے کی بات کہی جارہی ہے۔ شراوتی ندی کے کنارے چلنےوالی ریت سپلائی سے مقامی عوام کو مکمل طورپر مدد نہیں ملنے پر بھی اعتراض کیاجاتارہاہے۔ متعلقہ علاقے میں بارش کے موسم کے سوا اکرم ، سکرم دونوں طرح کی ریت سپلائی بلاروک ٹوک جاری رہتی ہے۔ زائد کمائی کے لئے ریت دیگر اضلاع کو بھی سپلائی کی جاتی رہی ہے۔ ریت کی قلت سے مزدور کام نہ ہونے سے خالی ہاتھ بیٹھنے پر مجبور ہوتےہیں۔ بھٹکل کے اطراف ریت کی مانگ زیادہ ہوتے ہی ندی نالوں اور سمندر کے کناروں کو ریت سواریوں کی آمدو رفت شروع ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے الویکوڑی میں گزشتہ 3-4مہینوں سے غیر قانونی ریت سپلائی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہے۔ جون ، جولائی کے مہینےمیں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ عمارات کی تعمیر جاری رہنے سے ریت کی مانگ میں اضافہ ہواہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بارش کے موسم میں غیر قانونی ریت سپلائی کرنےکی بات کہی جارہی ہے۔
حالیہ برسوں میں ریت سپلائی کا دھندہ کرنے والے تعلقہ کے بیلکے ، منڈلی علاقے کے سمندر کنارے پر نظر رکھنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہاں سیمنٹ کے تھیلوں میں ریت بھر کر ایک جگہ جمع کی جاتی ہے۔ رات کے اوقات جب عوام کی چہل پہل دیکھ کر ریت سپلائی سواری کو گزاراجاتاہے۔ غور کرنےو الی بات یہ ہے کہ یہ ریت سپلائی کہاں اور کس کو کی جارہی ہے ابھی تک راز میں ہے۔